تو جو مل جائے
تو جو مل جائے از انا الیاس قسط نمبر9
گھر آنے پر جو خبر اسے سننے کو ملی اس کاجی چاہا کاش وہ گھر رہ ہی آتا۔ ابھی بچوں ميں سے کوئ نہيں جانتا تھا کہ خديجہ اور وہيبہ کا اصل رشتہ کيا ہے۔ خبيب خود ابھی وہيبہ کی کل رات کی باتوں کو لے کر مخمصے ميں تھا کہ ايک نيا بم اس کے سر پر پھٹ گيا۔ ٹھيک ہے وہ اسے ہارون جيسے گھٹيا بندے سے بچانا چاہتا تھا مگر اس کا يہ مطلب نہيں تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ ساری زندگی کے لئيۓ باندھ ليتا۔ "بيٹا مجھے اميد ہے آج تم اس پوری دنيا ميں وہ واحد انسان ہو جو ميری بيٹی کو اس مصيبت سے نکال پاؤگے۔ ميں نے بہت مان سے تمہارا نام تمہاری دادی کے سامنے ليا ہے کيا تم ميرے اس مان کی لاج رکھ پاؤگے" وہ تو برا پھنسا تھا۔ لوگ اموشنل بليک ميلنگ کا شکار کيسے ہوتے ہيں آج وہ جان گيا تھا۔ کچھ دير تو اس ميں بولنے کی ہمت نہ ہوئ اور پھر وہيبہ۔۔۔کيا وہ مان گئ ہے۔ "آپ نے وہيبہ سے پوچھا" اس نے کوئ بھی جواب دينے سے پہلے اپنا خدشہ دور کرنا مناسب سمجھا۔ جانتا تھا کہ وہ کبھی نہيں مانے گی۔ مگر کبھی کبھی ہم جتنے قياس لگاتے ہيں وہ سب بودے نکلتے ہيں۔ " اسے کوئ اعتراض نہيں" وہ بری طرح چونکا۔ پھر لب بھينچ لئيے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ فراز صاحب کو بے چين کئيے دے رہے تھے۔وہ دونوں اس وقت اسٹڈی روم ميں بيٹھے تھے۔ خبيب کے گھر آتے ہی حبيب صاحب کسی کو کچھ بھی کہنے کا موقع دئيۓ بنا خبيب کو اپنے ساتھ اسٹڈی روم ميں لے گۓ اور اسے رات والی ہارون کی کال اور پھر اپنے فيصلے کے متعلق بتايا۔ "مجھے بھی کوئ اعتراض نہيں" اس کے سپاٹ لہجے پر غور کئيۓ بنا انہوں نے صرف اسکے منہ سے نکلنے والے اقرار کے لفظوں پر غور کيا اور يکدم آگے بڑھ کر اسے گلے لگا ليا۔ پھر اسی شام ان کا نکاح رکھا گيا اور انہيں تاريخوں ميں وہيبہ اور خبيب کی شادی ہونا قرار پائ۔ شام ميں نکاح کے پيپرز پر سائن کرنے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ اسکے ساتھ ہوکيا گيا ہے اور يہ کہ اب وہ اس رشتے کو کيسے نبھاۓ گا۔ شادی کی تياريوں ميں تيزی آگئ اب کی بار تو نفيسہ اور خديجہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہيں تھيں۔ رقيہ بيگم نے اب تک اپنی غلطی تسليم نہيں کی تھی۔ مگر فراز صا حب اورخديجہ کے لئيۓ يہی بہت تھا کہ انکی بيٹی ان کے ساتھ ٹھيک ہوگئ ہے۔ اور دونوں کی حيثيت تسليم کر لی ہے۔ مگر سب بچے حيران تھے کہ خديجہ سے خار کھانے والی وہيبہ يکدم انکی ہر بات کو ماننے کيسے لگ گئ ہے۔ مگر شادی کی خوشيوں ميں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہيں تھا کہ ان باتوں پر غور کرتا۔ وہيبہ تو بس حيران تھی قسمت کی ان چکر پھيريوں ميں وہ بس اس بات پر مطمئن تھی کہ اسکی جان ہارون جيسے گھٹيا انسان سے چھٹ گئ ہے خبيب جيسا بھی ہے مگر ويسا برے کردار کو تو ہر گز نہيں۔ خبيب نے بہت کوشش کی کہ شادی سے پہلے وہيبہ سے اس رشتے کے متعلق بات کرلے اسکے عزائم جان لے مگر سب نے گويا اسکا باقاعدہ پردہ شروع کروا دياتھا۔ "کس مصيبت ميں پھنس گيا ہوں انسان کو اتنا بھی بامروت نہيں ہونا چاہئيے کہ اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار لے" نفيسہ جو اسکے کمرے ميں آئيں تھيں شيروانی چيک کروانے خبيب نے ماں کے سامنے دل کی بھڑاس نکالی۔ "ہشت۔۔بدتميز ايسے نہيں کہتے۔۔اتنی تو پياری ہے ميری بہو ميری تو برسوں کی خواہش پوری ہوئ" انہوں نے محبت سے لبريز لہجے ميں کہتے اپنے دل کا حال بيان کيا۔ "يہ لو۔۔۔مائيں بيٹوں کی زندگيوں ميں سکون کی دعائيں مانگتی ہيں آپ طوفان آنے کی باتيں کر رہی ہيں۔" اس نے افسوس سے ماں کو ديکھا۔ "پاگل نہ ہو تو کيسی باتيں کر رہا ہے۔۔اللہ نہ کرے طوفان کيوں آۓ گا" انہوں نے ناراضگی سے اسے ديکھا۔ "تو آپکی بہو کسی طوفان سے کم ہے کيا روز جنگ و جدل کا ميدان گرم ہوگا۔ کبھی دھواں اٹھے گا ميرے کمرے سے اور کبھی گوليوں کی آوازيں آئيں گی۔ اور ابھی اگر پاگل نہيں ہوا تو آپکی بہو بيگم کے آنے کے بعد يقينا پاگل ہو جاؤں گا" اس نے منہ بنا کر ماں کو آنے والے دنوں کی منظر کشی کرکے بتائ۔ "چل چپ کر اتنی اچھی بہو ہے وہ ميری۔۔۔بس کچھ مسئلے تھے جنہوں نے اسے ايسا بنا ديا تھا۔۔اب تو بہت اچھی ہوگئ ہے" انہون نے آہ بھرتے ہوۓ کہا۔ "کون سے مسئلے" اس نے بھنويں اچکائيں۔ "بھائ آپکے دوست کا فون ہے" اس سے پہلے کہ نفيسہ اسے کچھ بتاتيں نہيا کی آواز آئ۔
اورنج، ڈل گولڈ اور ڈارک گرين لہنگے اور چولی ميں وہيبہ سب کزنز کے جھرمٹ ميں اسٹيج کی جانب آ رہی تھی۔ چہرے پر گھونگھٹ تھا۔ چونکہ نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا لہذا دونوں کی ايک ہی جگہ اکھٹے بٹھا کر مہندی کی رسم ادا کی جا رہی تھی۔ خبيب بھی ڈل گولڈ شلوار قميض ميں گلے ميں ڈارک گرين دوپٹہ پيچھے سے آگے کی جانب ڈالے خاموش اور سنجيدہ سا بہت سی نظروں کو خيرہ کئيۓ دے رہا تھا۔ پورے لان کو خوبصورتی سے سجايا گيا تھا۔ وہيبہ کو صوفے پر اسکے ساتھ لا کر بٹھايا گيا تب بھی اسکی سنجيدگی ميں کوئ فرق نہيں پڑا تھا۔ "بھئ يہ گھونگھٹ کس خوشی ميں دے ديا ہے اسے" خبيب کی ماموں کی بيٹی کی آواز آئ۔ "حالانکہ ہزاروں دفعہ کا ديکھا ہوا چہرہ ہے" خبيب کی ہلکی سی سرگوشی وہيبہ کے کانوں تک ضرور پہنچ گئ تھی۔ اور اس طنز سے ہی اسے اندازہ ہوگيا تھا کہ يہ وشتہ مجبوری ميں جوڑا گيا ہے۔ وہ جو نکاح کے بعد سے ايک خيال اسے تنگ کر رہا تھا کہ وہ کس وجہ سے اس رشتے کے لئيۓ مانا ہے اس ايک لمحے ميں اس پر واضح ہو گيا تھا کہ وہيبہ کی طرح وہ بھی رشتوں کو نبھانے کے چکر ميں ايک ناپسنديدہ ہستی کو عمر بھر برداشت کرنے پر آمادہ ہوا ہے اور پتہ نہيں عمر بھر کرتا بھی ہے کہ نہيں۔ ويسے بھی اسکے لئيۓ يہ رشتہ سواۓ نجات کے اور کچھ نہيں تھا۔ اس کا اب محبت اور اس رشتے سے اعتبار اس قدر اٹھ چکا تھا کہ اسکے نزديک سواۓ دھوکے کہ يہ رشتہ اور کچھ نہيں تھا۔ اسی لئيۓ اسے خبيب کے انداز پر نہ دکھ ہوا تھا نہ تکليف۔ باری باری گھر کے سب بڑوں نے انہيں مٹھائ کھلائ اور مہندی بھی لگائ۔ آخر ميں رقيہ بيگم نے ان دونوں کو ايک دوسرے کو مٹھائ کھلانے کا کہا۔ "پليز اماں بہت برا حال ہوگيا ہے کھا کھا کر اب مجھے قے آجاۓ گی۔" خبيب نے بہانہ بنانا چاہا۔ "کچھ نہين ہوتا جہاں اتنی ساری کھا لی تھوڑی سی اپنی بيوی کے ہاتھ سے کھانے ميں کيا تکليف ہے" انہوں نے اس کا ہر عذر رد کر ديا۔ سب بچہ پارٹی نے انہيں بک اپ کيا۔ "اوکے اوکے۔۔۔مگر يہ گھونگھٹ ہٹائيں۔۔اب کہيں منہ کی جگہ آنکھ ميں مٹھائ چلی گئ تو ميں تو کل بارات لانے کی بجاۓ ڈاکٹروں کے چکر لگاتا پھروں گا۔" خبيب کی بات پر ايک قہقہ پڑا۔ "ويسے ہی کہہ دو چہرہ دکھائيں ميری مسز کا۔۔۔ڈرامے کيوں کر رہے ہو" يہ آواز سمارا بھابھی کی تھی۔ "حد ہوگئ ہے يار ايک لوجکل بات کی ہی اس ميں آپ لوگ چھيڑنے سے باز نہ آنا۔ ميری توبہ جو آئندہ ميں نے يہ شادی والی غلطی کی۔۔۔۔اس قدر درگت بناتے ہيں آپ لوگ" سب کی موجودگی کے باعث وہ جان بوجھ کر اپنے لہجے کو ہشاش بنانے کی کوشش کر رہا تھا يا وہيبہ کو محسوس ہو رہا تھا۔ "ڈرامے باز" اس نے دل ميں سوچا۔ "اوہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔يعنی ايک اور شادی کرنے کی بھی پلينگ کر رہے ہيں" ربيعہ بولی۔ "تو اور کيا سوچا تھا ايک اچھا ايکسپرينس ہوا تو دو چار اور بھی کرلوں گا۔۔۔مگر يہ تو ايک بھی نہيں بھگتائ جا رہی۔۔باقيوں کا تو اب سوچنا بھی نہيں" خبيب کی شرارتيں عروج پر تھيں۔ "اب گھونگھٹ اٹھے گا يا ميں دربار يار سے اٹھنے کی جسارت کروں" اسکے لطيف سے طنز پر نيہا نے آگے بڑھ کر وہيبہ کا گھونگھٹ اٹھانا چاہا کہ ينگ پارٹی کی جانب سے پھر آواز آئ۔ "بھابھی کا چہرہ دکھانے پر ہميں کيا ملے گا" "ميرے ولميے کا کھانا" نيہا بھی رک گئ۔ خبيب کی بات پر سب نے پھر سے اوہ کا نعرہ لگايا۔ "وہ تو ہميں ويسے بھی ملنے والا ہے کوئ اور بات کرو" وہاج کے کہنے پر سب نے اسکا ساتھ ديا۔ "اگر ايک چہرہ ديکھنا مجھے مہنگا پڑنے والا ہے تو رہنے دو ميں چلتا ہوں کل ديکھ لوں گا۔۔ميں ايک دن اور صبر کر سکتا ہوں کوئ اتنی جلدی نہيں مجھے" خبيب کی آخری بات پر وہيبہ کو لگا يہ اس نے خاص وہيبہ کو سنايا بلکہ جتايا ہے کہ اسکے نزديک اسکی کوئ حيثيت نہيں۔ "بہت ہی کنجوس ہو بھائ بيٹھو" نيہا نے ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھاتے شرم دلائ۔ اور وہيبہ کو گھونگھٹ سرکايا۔ خبيب نے چمچ ميں مٹھائ لے کر جونہی اسکی جانب نگاہ کی وہ کچھ لمحوں کے لئيۓ ساکت ہوگئ۔ ميک اپ سے پاک مگر ايک حزن لئيۓ اسکا حسن سب کو مبہوت کرگيا۔خبيب نے بہت کوشش کی نگاہ پلٹنے کی مگر دل نے کچھ لمحوں کے لئيۓ اجازت ہی نہيں دی۔ بڑی مشکل سے خود پر کنٹرول کرتے اس نے وہيبہ کی جانب چمچ بڑھايا نظريں جھکاۓ اس نے منہ کھولا اور خبيب نے آہستہ سے اسے مٹھائ کھلائ۔ نيہا نے چمچ وہيبہ کی جانب بڑھائ اس نے بھی تھوڑی سے مٹھائ لے کر خبيب کی جانب بڑھائ مگر اسکے ہاتھوں کی لرزش اس قدر تھی کہ خبيب کو شک گزرا کہ کہيں يہ مٹھائ والا چمچ اسکے اوپر نہ گر جاۓ اس نے ايک ہاتھ بڑھا کر وہيبہ کے چمچ تھامے ہاتھ پر رکھ کر مٹھائ کھائ۔ سب نے اس حرکت پر ہوٹنگ کی۔ خبيب نے ہلکی سی مسکراہٹ سے ان سب کی جانب ديکھا۔ جبکہ وہيبہ کا دل تيزی سے دھڑکنے لگا۔
بارات والے دن وہيبہ پر ٹوٹ کر روپ آيا تھا مگر يہ روپ بے حد سوگوار تھا۔ ڈيپ ريڈ شرٹ اور دوپٹے اور گولڈن شرارے ميں ہر آنکھ ميں اسکے لئيۓ ستائش تھی۔بارات ہال ميں ہی ارينج کی گئ تھی۔ نکاح چونکہ ہو چکا تھا لہذا وہيبہ کو ہال ميں آتے ساتھ ہی خبيب کے ساتھ بٹھايا گيا تھا جو بليک شيروانی اور وائٹ شلوار اور وائٹ ڈل گولڈ کلہ سر پر رکھے کسی رياست کے شہزادے سے کم نہيں لگ رہا تھا۔ وہيبہ کے اسٹيج کے قريب آتے ہی اس نے آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قريب کھڑا کيا۔ وہيبہ کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھ چکی تھی۔ خبيب کا پل پل بدلتہ روپ اسے پريشان کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ان لمحوں ميں وہ بہت سی نظروں کی ضد ميں ہے۔ ايک باپ نے جس مان سے اپنی بيٹے کس لئيۓ اسے چنا تھا وہ اس باپ کو کسی دکھ اور تکليف ميں مبتلا نہيں ديکھنا چاہتا تھا لہذا ان لمحوں کے سب تقاضے پورے کر رہا تھا۔ سب کزنز مل کر دودھ پلائ کی رسم کے لئيۓ اسٹيج پر جمع ہوئيں۔ "بھائ جلدی سے پی کر جيب ڈھيلی کريں" نيہا بھی سب ميں شامل تھی۔ "تم کب سے غداروں ميں شامل ہو گئ ہو" اس نے بھنويں سکيڑتے نہيا اور فارا کو گھورا۔ "جب سے آپکی بيگم کی دوست بنے تھے۔" انہوں نے بھی فٹ سے جواب ديا۔ ہميشہ سے خبيب سے ڈرنے والياں آج شير بنی ہوئيں تھيں۔ بمشکل ساری رسموں سے گزر کر رخصتی ہوئ۔ حالانکہ وہيبہ کو واپس اسی گھر ميں آنا تھا مگر پھر بھی سب کے آنسو آنکھوں سے چھلک پڑے۔ گھر آتے ہی سب نے وہيبہ کو پہلے کمرے ميں پہنچايا جسے بہت خوبصورتی سے سجايا گيا تھا۔ پورے کمرے ميں موم بتياں لگا کر اسے روشن کيا گيا تھا۔ اور پھولوں کی پتياں زمين اور بيڈ پر جابجا بکھری ہوئيں تھيں۔ جس وقت خبيب کمرے ميں آنے لگا سب نے پھر سے اسکا رستہ روکا۔ "کيا مذاق ہے يار بس کرو اب۔۔۔بيوی اتنی مہنگی پڑی ہے پہلے پتہ ہوتا تو انکار کر ديتا" وہ حقيقتا اب بے دل ہو گيا تھا۔ "شرم تو نہيں آتی آپکی يہ بات ميں نے ريکارڈ کر لی ہے کل وہيبہ کو سنائيں گے" سب نے اسے دھمکی دی۔ "ميری طرف سے ابھی سنا دو۔۔۔ليکن اب بس کرو تھکاوٹ سے برا حال ہوگيا ہے اور اگر اب اندر نہ جانے ديا تو ميں دينو چاچا کے کوارٹر ميں جا کر ليٹ جاؤں گا" خبيب نے دھمکی دی۔ "ہاہاہاہا اور ہمارے جاتے ہی واپس آجائيں گے" سبحان بولا۔ "کوئ اور صورت نہيں ہو سکتی تم لوگوں سے جان چھڑانے کی" اس نے گدی سہلائ۔ "نہيں" سب يک زبان ہو کر بولے۔ "اچھا چلو وليمے کے بعد سب کو ہائ ٹی کی ٹريٹ پکی" اس نے ابھی تو جان چھڑوانے والی بات کی۔ "لکھ کر ديں" نيہا جلدی سے ايک کاغذ پنسل لے آئ۔ "شرم کرو بھائ پر اعتبار نہيں" اس نے مصنوعی خفگی سے کہا۔ "نہ" اس نے بھی ڈھٹائ سے کہا۔ اس نے فورا لکھ کر اپنے سائن کئيۓ تب کہيں جاکر سب وہاں سے گۓ۔ وہ آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر آيا۔ وہيبہ اسکی توقع کے برخلاف بيڈ پر بيٹھی دلہنوں کی طرح ہی اسکا انتظار کر رہی تھی۔ "حيرت ہے آپ بہت بڑی خوش فہمی ميں مبتلا ہيں" اس نے استہزائيہ انداز ميں اسکے حسين روپ کی جانب سے نظر چراتے ہوۓ کہا۔ ساتھ ساتھ کلہ اور پھر شيروانی اتاری۔ وہيبہ کی تو جان جل کر رہ گئ۔ اس نے خود کو نہايت بے وقوف تصور کيا۔ تيزی سے بيڈ سے اٹھی اور ڈريسنگ روم کی جانب بڑھنے لگی کہ کلائ پاس کھڑے خبيب کے ہاتھ ميں آگئ۔ "کيا سوچ کر نکاح نامے پر دستخط کئيے تھے۔" اسکے طنزيہ لہجے ميں پوچھے جانے والے سوال نے وہيبہ ميں وہی روح بھر دی جو پہلے خبيب کو ديکھ کر جاگتی تھی۔ "يہی سوال ميں آپ سے پوچھنا چاہوں گی۔۔۔مجھ جيسی بے باک لڑکی جسے آپ نوکرانی بنانا توہين سمجھتے تھے اس سے نکاح کے لئيۓ کيوں آمادہ ہوۓ۔" وہيبہ نے بے خوفی سے کہا۔ "مجبوری۔۔کسی کے مان بھرے لہجے کی مجبوری" "يہاں بھی معاملہ مجبوری کا ہی ہے کسی درندہ صفت انسان سے بچنے کی آخری صورت يہی نظر آئ تھی" اس نے بھی بے لچک لہجے ميں کہا۔ "تو يہ ڈرامہ کب تک پلے کرنا ہے۔ آج ہی سب طے ہو جاۓ تو اچھا ہے" خبيب نے بغير ہچکچاہٹ کے پوچھا۔ "اتنی کيا جلدی ہے۔۔يا کہيں اور کمٹمنٹ ہے" وہيبہ نے کاٹ دار لہجے ميں پوچھا۔ "ہو بھی سکتی ہے" خبيب نے اسکے چہرے پر نظريں گاڑھتے ہوۓ کہا۔ "آپ آزاد ہيں جہاں مرضی شادی کريں" اس نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالتے ہوۓ کہا۔ کہيں کچھ ٹوٹا ضرور تھا۔ "آپ کا دم چھلا ساتھ لگا کر؟" "تو يہ نکاح کرتے وقت سوچنا تھا کہ مجھے ابھی کچھ دنوں تک جھيلنا ہوگا" وہيبہ نے غصے سے کہا۔ "ميں تو سمجھا تھا آپ انکار کرديں گی مگر ميری ايسی قسمت کہاں کہ آپ جيسی لڑکی سے جان چھوٹ جاتی" "مجھ جيسی سے کيا مطلب ہے آخر آج بتا ہی ديں آپ" "آپ کو زيادہ بہتر پتہ ہے۔۔نجانے کب تک آپ جيسی منہ پھٹ اور بدتميز لڑکی کو جھيلنا پڑے گا" "ہاں ہوں مين منہ پھٹ اسی لئيۓ منہ پھٹ ہوں کہ آپ جيسے بچوں کی سی تربيت نہين ہوئ ميری۔۔۔سگی ماں کے ہوتے ايک ايسی گود نے پرورش کی جس ميں نہ محبت کی گرمائش تھی نہ پيار کے پھا ہے تھے۔۔ جہاں صرف نفرت اور حسد کی آگ تھی ميری ماں اور آپکی خديجہ چچی سے بدلہ لينے کی۔۔۔ميں ہوں بدتميز اور منہ پھٹ کيونکہ مجھے اس تربيت ميں موجود خلا نے ايبنارمل بنا ديا ہے۔ تو پھر ميں کيسے آپ جيسے لوگوں کی طرح بی ہيو کروں۔ پوچھيں جا کر تائ سے کہ مين ايسی کيوں ہوں وہ آپکی زيادہ بہتر جواب ديں گی۔۔اور اتنی ہی بری لگتی ہوں تو کيوں بچايا مجھے دو مرتبہ اس درندے سے کيوں پاپا کو اسکی سرگرميوں کے بارے ميں اطلاع دی۔۔۔آج اسی کے ہاتھوں رسوا ہو کر مر جاتی تو سب کی جان چھوٹ جاتی مجھ سے۔۔۔۔" روتے روتے وہ تيزی سے مڑی اور ڈريسنگ روم ميں بند ہوگئ۔ مگر اسکی بے ترتيب باتيں خبيب کو الجھا گئيں۔ اب مزيد وہ اس کسوٹی کو کھيلنے کا متحمل نہيں ہو سکتا تھا۔ وہ تيزی سے کمرے سے نکل کر نفيسہ کے کمرے کی جانب گيا